Urdu Jahan: MOTIVATION

Urdu Jahah is all about URDU

Showing posts with label MOTIVATION. Show all posts
Showing posts with label MOTIVATION. Show all posts

Wednesday, April 8, 2020

موجودہ وقت

April 08, 2020 0
موجودہ وقت

موجودہ وقت


 اگر آپ کو کامیاب ہونا ہے تو وقت کی قدر کرنا ہوگی۔ وقت دنیا کی سب سے قیمتی شے ہے جو ہر انسان کو مفت دیا گیاہے۔ ہر انسان کو دن رات میں 24 گھنٹے ملتے ہیں۔ اب کوئی ان 24 گھنٹوں کا درست استعمال کر کے کامیابی کی راہ پہ گامزن ہو جاتا ہے تو کوئی اس وقت کی قدر نا کرتے ہوئے ناکامی کے گھڑے میں گر جاتا ہے۔ 
 اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا کی سب سے قیمتی شے کیا ہے تو میرا جواب ہوگا کہ وقت ہی دنیا کی سب سے قیمتی ہے۔ جی ہاں وقت دنیاکی سب سے انمول چیز ہے جو وقت ایک بار گزر گیا سو گزر گیا۔گزرا  وقت پھر ہاتھ نہیں آتا اگر آپ کومیاب ہونا ہے، خوشحال زندگی گزارنی ہے، اپنی زندگیوں کو خوشی کے لمحات سے بھرنا ہے،یک عمدہ اور اعلی زندگی گزارنی ہے تو آپ کو ایک کام تو لازمی کرنا ہوگا آپ کو وقت کی اہمیت کوسمجھنا ہوگا اور اس پر عمل بھی کرنا ہوگا۔
وقت کی مثال ایک چلتے دریا جیسی ہے کہ جب آپ دریا میں پانی کو ہاتھ لگاتے ہیں تو جو پانی آپ کے ہاتھ سے چھو کر گزر گیا آپ دوبارہ اس پانی کو نہیں چھو سکتے، اسی طرح جو لمحات آپ کی زندگی میں سے گزر گئے اب ماضی کا حصہ ہیں جنہیں آپ یاد تو کرسکتے ہیں لیکن آپ انہیں دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔  کچھ لوگ ماضی میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں اور اپنے آج کوPRESENT کوضائع کرتے رہتے ہیں۔ َ
    اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو وقت کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ماضی میں آپ نے جو غلطیاں کیں اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔ماضی س لیے ہوتا ہے کہ آپ اپنے ماضی کا جائزہ لیں اور اپنے کی ہوئی غلطیوں سے کچھ سیکھیں۔اگر آپ اپنے ماضی کی یادوں میں گم ہوکر اپنا موجودہ وقت ضائع کرتے رہیں گے تو آپکامستقبل بھی نہیں بن پائے گا اور آپ کا آج یعنیPRESENT بھی ضائع ہوتا رہے گا َ۔

اس لیے آپ کو وقت کی قدر کرنا ہوگی اپنے کاموں کا جائزہ لیں اور غیر ضروری کاموں کو اپنی زندگی سے نکال دیں۔ پھر آپکے پاس جو وقت بچے گا آپ ان کو کسی اچھے کاموں میں صرف کریں اور اپنی پلاننگ پر عمل کریں۔
 آپ اپنے آپ کو وقت دیں دیں اپنے ارادوں کو اپنے منصوبوں کو وقت دیں اور ان پر مکمل طور پر عمل کریں۔تو آنے والا کل آپ کا ہوگا اور آپ وقت کی قدر کرتے ہوئے ایک کامیاب اورپرسکون زندگی گزار سکیں گے۔ دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی وقت کی بہت قدر کی ہے اور اپنا ایک  بھی  لمحہ نہ ضائع کرتے ہوئے اپنے منصوبوں پر عمل کیا ہے۔

Tuesday, April 7, 2020

نہایت ہی کمزور ایمان

April 07, 2020 0
 نہایت ہی کمزور ایمان

 نہایت ہی کمزور ایمان

 نہایت ہی کمزور ایمان
 نہایت ہی کمزور ایمان

ہمارا ایمان بہت ہی کمزور ہوچکا ہے۔ اتنا کمزور کے دوسرے مذاہب کے لوگ ہمارا حال دیکھ کر دائرہ ایمان میں داخل ہی نہیں ہو پاتے اور ہم پہ ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ 
اب ہمارے ایمان کا یہ حال ہے کہ ایک طرف ہم کسی اخبار یا کسی اور کاغذ پہ اگر اللہ نبی  ﷺ کا نام لکھا ہو تو اس نام کی عزت نہیں کرتے اور جانتے ہوئے بھی ہر جگہ پہ پھینک دیتے ہیں۔ 
اور دوسری طرف اگر ہمارے پاس کہیں سے کوئی ایسا نوٹ آ جائے جس کے serial نمبر میں 786 آ جائے تو ہم اس نوٹ کو سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں اور انتہائی ضرورت پر بھی خرچ نہیں کرتے کہ اس میں تو بسم اللہ کا نمبر ہے۔ اپنی دکان پہ یا اپنے بٹوے میں نمایاں جگہ پہ رکھا جاتاہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے۔
یہ تو ہمارے ایمان کا حال ہے۔ 

Sunday, April 5, 2020

قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا 02

April 05, 2020 0
قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا 02

قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا

قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا 02

سیمیوئل اسمائلز کا استدلال تھا کہ بھرپور کامیابی کے لئے صلاحیت بنیادی شرائط میں سے ہے، مگر کمتر صلاحیت بھی کامیابی کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ صلاحیت کا گراف زیادہ بلند نہ ہو تب بھی انسان بھرپور لگن اور انتھک محنت کے ذریعے کسی بھی مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ اسمائلز نے جارج لوئی بفون کے بارے میں بھی لکھا جس نے فطرت کی تاریخ چوالیس جلدوں میں لکھی۔ اس کتاب میں اپنے موضوع پر اس وقت تک کے علم کا بھرپور احاطہ کیا گیا تھا۔ اس کتاب کے عمیق مطالعے سے چارلس ڈارون کو بھی ”اصل الانواع“ لکھنے میں مدد ملی۔ اسمائلز نے اپنے دور کی نمایاں شخصیات کو کتاب کا حصہ بنایا۔ ان میں سے متعدد شخصیات کو اب لوگ بھول بھال گئے ہیں۔ جو لوگ گزرے ہوئے زمانوں کی نمایاں شخصیات سے ملاقات کے خواہش مند ہیں وہ بھی اس کتاب سے بہتر طور پر مستفید ہوسکتے ہیں۔ 
ڈی میسترے نے کہا تھا کہ انسان اگر انتظار اور صبر کرنا سیکھ لے تو کامیابی کا راز پاسکتا ہے۔ لوگ بے صبری کے ہاتھوں برباد ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں بے صبری پوری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔ کسی بھی عمل کا نتیجہ برآمد ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ سر آئزک نیوٹن نے بھی کامیابی کے لئے انہماک اور مستقل مزاجی کا ناگزیر قرار دیا ہے۔ کسی بھی دور میں اور کسی بھی شعبے میں بھرپور کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، ذہن کو منظم رکھتے ہیں اور اپنے کام میں اس قدر دلچسپی لیتے ہیں کہ کسی اور چیز کا انہیں دھیان ہی نہیں رہتا۔ کامیابی کے لئے ان کسی انسان میں ان اوصاف کو پیدا کرنا کسی بھی تعلیمی ادارے کے بس کی بات نہیں۔ عملی زندگی ہی ان اوصاف کی معلم ہے۔ لوگ غلطیاں کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ 
سیلف ہیلپ کی کتابوں میں کردار سازی پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ سیمیوئل اسمائلز نے بھی کردار سازی پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ آج کی دنیا میں بھرپور کامیابی کے لئے معلومات کو سب سے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ مواد اور معلومات کو بہتر انداز سے پیدا کرنے اور ترسیل میں مہارت رکھنے والوں ہی کو اب کامیابی کا اہل قرار دیا جاتا ہے۔ اسمائلز لکھتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں حقیقی کامیابی یقینی بنانے کے لئے کردار سازی ناگزیر ہے۔ جو لوگ مضبوط کردار کے مالک ہوں، اپنے وعدے کسی حال میں فراموش یا نظر انداز نہ کرتے ہیں اور جو کہہ دیں اس پر عمل بھی کرتے ہوں، لوگ ان پر آسانی سے اور زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ کردار کی بلندی انسان کو حالات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہونے اور زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ جن کا کردار بلند نہ ہو وہ اتفاق سے مل جانے والی کامیابی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ سیمیوئل اسمائلز کی کتاب 1850 کے عشرے کے حالات سے بھی مطابقت رکھتی ہے اور آج بھی اس کی اہمیت سے اس لئے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں کامیابی کے آفاقی اور بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ڈیڑھ سو سال قبل انسان کو بہت سے نفسیاتی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں تھا۔ زندگی میں خاصی سادگی تھی۔ تکنیکی ترقی کے جو شاہکار آج ہمارے لئے بالکل نارمل ہیں، تب ان کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ انسان کو بھرپور کامیابی کے لئے جس تحریک کی ضرورت ہوا کرتی ہے اس سے متعلق کتابیں کم کم ہی شائع ہوتی تھیں۔ شخصی ارتقا کا تصور مبہم تھا۔ لوگ غیر معمولی خواہشات کو پروان چڑھانے سے دور دور رہتے تھے۔ سیمیوئل اسمائلز نے ایک ایسی کتاب دی ہے جس کے ذریعے لوگوں کو بہتر زندگی کی طرف بڑھنے کے بارے میں سوچنے کا شعور ملا۔ اسمائلز نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حالات خواہ کچھ ہوں اور کتنے ہی مصائب آئیں، انسان کا کردار متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ شدید خرابی کے باوجود لوگ پرعزم رہے اور حالات کو درست کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔ اور بالآخر کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ سر ہمفرے ڈیوی کا کہنا تھا ”میں جو کچھ بھی ہوں، اپنی محنت کا نتیجہ ہوں۔ میں یہ بات کسی بھی قسم کے تکبر اور سادہ لوحی کے بغیر کہہ رہا ہوں۔“ جو کچھ سر ہمفرے ڈیوی نے کہا اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی محنت ہی کے بل پر بھرپور کامیابی حاصل کرتا ہے۔ کوئی بھی انسان یومیہ بنیاد پر جو فیصلے کرتا ہے انہی کی بنیاد پر شخصیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کردار ہمیں کہاں لے جائے گا؟ کیا کوئی شخص بلند کردار کے ساتھ کاروبار کی دنیا میں شاندار کامیابی حاصل کرسکتا ہے؟ کسی بھی معاشرے کو زندہ رکھنے میں اعتبار مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ کاروبار کی دنیا میں بھی وہی لوگ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جن پر اعتبار کرنا مشکل نہ ہو۔ جو لوگ اپنے کہے پر عمل کرتے ہیں ان پر اعتبار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسمائلز نے اس نکتے پر خاص زور دیا کہ کردار کی بلندی انسان کو عظیم کامیابیوں کے لئے نفسیاتی طور پر تیار کرتی ہے۔ 
بات جب کردار کی آتی ہے تو کسی بھی چیز کی زیادتی سے بچنے کی تلقین بھی کی جاتی ہے۔ ویسے تو کسی بھی چیز کی زیادتی ذہن اور جسم کو تباہ کرکے دم لیتی ہے، تاہم نشہ آور اشیا اس معاملے میں نمایاں ہیں۔ اسمائلز نے منشیات سمیت تمام معاملات میں اعتدال پر زور دیا ہے۔ بہت سے لوگ یومیہ بنیاد پر رونما ہونے والی ناکامی کا غم بھلانے یا چھپانے کے لئے شراب اور دیگر منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کے لئے صرف خرابیاں پیدا ہوں گی مگر اس کے باوجود وہ جسمانی سکت اور ذہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے والی اشیا استعمال کرتے ہیں۔ شراب نوشی کو ہر اعتبار سے نقصان دہ سمجھنے والے بھی اسے زندگی کا حصہ اس لئے بناتے ہیں کہ اس کی مدد سے زندگی کے تلخ حقائق سے فرار ممکن ہو جاتا ہے۔ سر والٹر اسکاٹ نے بھی کہا تھا کہ برائیاں تو بہت سی ہیں تاہم شراب نوشی کی نظیر کوئی نہیں لاسکتا۔ 
سیمیوئل اسمائلز نے جب ”سیلف ہیلپ“ لکھی تھی تب برطانوی سلطنت دنیا کے ایک چوتھائی پر متصرف تھی۔ کسی بھی دوسری سلطنت کی طرح برطانوی سلطنت نے بھی بہت سی خرابیاں پیدا کیں۔ اسے زندہ رکھنے کے لئے بعض معاملات میں غیر معمولی نا انصافی بھی دکھائی دی اور بہت سوں کو بنیادی حقوق سے محروم ہونا پڑا۔ اور دوسری طرف اس سلطنت نے روشن خیال سیاسی اصولوں، معاشرتی اصلاحات، غیر معمولی توانائی اور ترغیب و تحریک کا تحفہ بھی دیا۔ برطانوی سلطنت نے ترقی اور نمو کے تصور کو اجاگر کیا اور ثابت کیا کہ کسی واضح مقصد کو ذہن میں رکھا جائے تو ہمہ گیر ترقی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ جان اسٹوارٹ مل نے ”آن لبرٹی“ میں بتایا تھا کہ معاشرے میں ہر طرف کار فرما دکھائی دینے والے اصول دراصل اضافی نوعیت کے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسمائلز نے واضح طور بیان کیا کہ کسی بھی ریاست کے باشندے مل کر جو کچھ کرتے ہیں وہی اس ریاست کی حقیقی دولت ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے میں بھرپور ترقی دراصل انفرادی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کسی بھی ریاست کی ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے باشندے ترقی کا سوچیں اور محنت کریں۔ اکیسویں صدی میں بھی حقیقی ترقی کے بارے میں عوام جو کچھ سوچیں گے وہی ان کی ریاست کی ترقی ہوگی۔ ترقی کا آدرش آج بھی انفرادی یا شخصی سطح ہی پر پروان چڑھتا ہے۔ نوجوانی میں اسمائلز بھی سیاسی اصلاحات کے لئے غیر معمولی جذبہ رکھتے تھے مگر بعد میں انہوں نے محسوس کیا کہ شخصی ارتقا کے شعبے میں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ اس خیال کے بھی حامل تھے کہ انفرادی اصلاح کو یقینی بناکر ہی معاشرے کی اصلاح بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ 
اسمائلز کی کتاب میں خواتین کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہوسکتا ہے کہ اس دور میں خواتین نے مختلف شعبوں میں اپنی حیثیت منوانے کی بھرپور جدوجہد کا آغاز نہیں کیا تھا۔ اسمائلز نے کتاب کی تیاری کے سلسلے میں جن لوگوں سے بات کی تھی وہ بھی شاید خواتین کے نمایاں معاشرتی اور معاشی کردار کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ اگر عملی زندگی میں خواتین کی کامیابیوں کی چند مثالیں بھی شامل کیجاتیں تو ”سیلف ہیلپ“ آج بھی ایک کامیاب کتاب ثابت ہوتی۔ بہر کیف، سیمیوئل اسمائلز کی یہ کتاب آج بھی اس قابل ہے کہ اسے پڑھا جائے اور زندگی کا معیار بلند کرنے کی تحریک حاصل کی جائے۔  

01 قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا

April 05, 2020 0
01  قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا

 قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا

01  قصہ بہتر زندگی کی خواہش کا

………………………………………………………………
1859 میں تین عظیم کتابیں منظر عام پر آئیں۔ چارلس ڈارون نے ”اوریجنز آف اسپیسیز“ (اصل الانواع) شائع کی جس میں یہ اصول بیان کیا گیا تھا کہ ماحول سے غیر معمولی مطابقت پیدا کرنے والی انواع ہی بقا سے ہمکنار رہتی ہیں اور ان کا معیار زندگی بھی بلند ہوتا رہتا ہے۔ چارلس ڈارون کی اس کتاب نے کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر میں فطری علوم سے شغف رکھنے والوں کی سوچ پر اس کتاب نے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ جان اسٹوارٹ مل نے اپنی مشہور زمانہ کتاب”آن لبرٹی“ شائع کی جس میں آزادی سے مزین معاشرے کی تصویر پیش کی گئی تھی۔ اور تیسری کتاب ”سیلف ہیلپ“ تھی۔ اس کتاب میں سیمیوئل اسمائلز نے ثابت کیا کہ انسان چاہے تو زندگی کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے۔ زندگی میں مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنا سراسر خواہش اور عزم کا معاملہ ہے۔ چارلس ڈارون اور جان اسٹوارٹ مل کی کتابوں کی سی گہرائی اور گیرائی تو اسمائلز کی کتاب میں نہیں تھی، مگر اس کتاب نے شخصی ارتقا کے حوالے سے انقلاب کی راہ ہموار کی۔ ”سیلف ہیلپ“ نے شخصی ارتقا سے متعلق تحقیق کی راہ ہموار کی اور لکھنے والوں نے اس موضوع پر بھی توجہ دینا شروع کیا۔ یہ وہ دور تھا جب انسان فطری علوم اور فنون میں تیز رفتار پیش رفت کو یقینی بنا رہا تھا اور اس کے نتیجے میں زندگی کے بیشتر معاملات الجھتے جارہے تھے۔ معاشروں میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ لوگوں کو زندگی کے الجھے ہوئے معاملات سلجھانے کے لئے رہنمائی درکار تھی۔ 
وکٹورین عہد کے انگلینڈ میں سیمیوئلز اسمائلز کی کتاب کو انجیل کے بعد مقبول ترین کتاب کا درجہ ملا۔ اس کتاب کو لوگوں نے بڑے پیمانے پر خریدا اور اس میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق زندگی کا بنیادی ڈھانچا بدلنے کی کوشش بھی کی۔ اس کتاب نے انسانی عزم اور حوصلے کی روایت کو آگے بڑھایا۔ ”سیلف ہیلپ“ سے قبل بنجامن فرینکلن کی خود نوشت اور ہوریشیو الگر کے ناولوں نے انسانی عزم کی داستان عمدگی سے بیان کی تھی۔ اسمائلز نے اپنی کتاب میں نامور شخصیات کے حالات زندگی سے عمدہ مثالیں دیں تاکہ قارئین کو زندگی کا معیار بلند کرنے کی تحریک ملے۔ 
سیلف ہیلپ لٹریچر میں مشہور شخصیات کے حالات زندگی سے ایسی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن کے ذریعے قارئین کے خیالات کی تہذیب ہوتی ہے۔ اسمائلز نے اپنی کتاب میں نامور شخصیات سے متعلق واقعات کو نمونے کے طور پر پیش کیا تاکہ قارئین زندگی میں پیش رفت کو یقینی بنانے کی تحریک پائیں اور بہتر زندگی کے لئے جو کچھ ناگزیر ہے وہ کر گزرنے کا عزم رکھیں۔ سیمیوئل اسمائلز نے سر ولیم ہرشل کی مثال دی ہے کہ انہوں نے کس طور شہر شہر گھومنے والے ایک آرکیسٹرا کے فنکار کی حیثیت سے کام چھوڑ کر فلکیات کے شعبے میں قابل رشک مہارت پیدا کی اور ایک دوربین ایجاد کرکے یورینس اور کئی دوسرے فلکی اجسام دریافت کئے۔ انہوں نے انگلینڈ کے شاہی ماہر فلکیات کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ سر ولیم ہرشل 1738 میں پیدا ہوئے اور 1822 میں ان کا انتقال ہوا۔ 
برنارڈ پیلیسی کو آج بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایک غریب برتن ساز تھا جس نے اینمل ویئر بنانے کے لئے گھر کا فرنیچر بھی اپنی بھٹی میں جلا دیا تھا۔ برتن بنانے میں اس کے انہماک کا یہ عالم تھا کہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہوجانا اس کے لئے معمولی بات تھی۔ اپنے فن میں غیر معمولی مہارت پیدا کرنے کی بدولت اسے فرانس کے شاہی دربار تک رسائی ملی اور بادشاہ نے بھی اس کے فنکارانہ مہارت کا اعتراف کیا۔ 
گرین ولے شارپ 1735 میں پیدا ہوا اور اس کا انتقال 1813 میں ہوا۔ وہ ایک کلرک تھا مگر اس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔ اس نے فرصت کے لمحات میں غلامی کی قبیح رسم کے خلاف تحریک شروع کی۔ اس کی برسوں کی محنت رنگ لائی اور حکومت کو غلامی سے متعلق قانون تبدیل کرنا پڑا تاکہ غلامی کو فروغ دینے والوں کی واضح حوصلہ شکنی ہو۔ 
مشہور اور کامیاب ترین شخصیات کے حالات ہم تک اس لئے نہیں پہنچائے جاتے کہ ہم صرف رشک کریں، بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان سے کچھ سیکھا جائے، کچھ کر گزرنے کی تحریک پائی جائے۔ کسی بھی کامیاب انسان کو ہم اپنے لئے نمونہ بناسکتے ہیں۔ صلاحیت، محنت، استقامت اور تحمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہر کامیاب انسان کے حالات ہمیں یہی سکھاتے ہیں۔ 
سیمیوئل اسمائلز اس یقین کے حامل تھے کہ انسان اپنے حالات درست کرنے اور زندگی کا معیار بلند کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے اس لئے ان کی کتاب ہر دور میں کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ مستقل مزاجی اور پوری لگن کے ساتھ کی جانے والی محنت ہر دور میں کامیابی کے بنیادی اصول رہے ہیں۔ عام آدمی کے ذہن میں کامیابی کے حوالے سے بنیادی تصور یہ ہے کہ ہر انسان اپنے شعبے میں فن کی بلندی پر نہیں پہنچ سکتا اور یہ کہ جب کوئی شخص جنون کی حد تک اپنے کام سے عشق کرنے لگتا ہے تب اس کا معیار بلند ہوتا ہے۔ سیمیوئل اسمائلز نے اس نکتے پر زور دیا کہ ہر انسان اپنے کام پر بھرپور توجہ دیکر بے مثال کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ دنیا بھر میں صلاحیت کو غیر معمولی اہمیت دینے کا رجحان عام ہے۔ اسمائلز نے اس نکتے پر زور دیا کہ صرف صلاحیت کافی نہیں، محنت اور لگن بھی ناگزیر ہے۔ اور اس سے کہیں بڑھ کر، کم صلاحیت کے ساتھ بھی بھرپور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انسان زندگی بھر غلطیاں کرتا ہے اور ان سے سیکھتا ہے۔ اسمائلز نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مشہور فنکار دراصل غیر معمولی صلاحیت کے حامل نہیں تھے، بلکہ انتھک محنت نے انہیں کامیابی اور شہرت کی بلندی پر پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ باصلاحیت ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہر انسان کو قدرت نے کسی نہ کسی شعبے میں صلاحیت سے نوازا ہے۔ اس صلاحیت کو پروان چڑھانا، کارکردگی کا معیار بلند کرنا، مہارت میں اضافہ کرنا اور نفاست پیدا کرنا بھرپور کامیابی کے لئے بے حد ضروری ہے۔ اور اس سے ایک قدم آگے جاکر، بھرپور لگن کے ساتھ محنت کرنا بھی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ مائکل انجیلو نے سسٹین چیپل کی چھت پر اپنی فنکاری کے نمونے کسی صورت نہ چھوڑے ہوتے اگر وہ تختے پر لیٹ کر کام کرنے کی مشقت گوارا نہی کرتے! چارلس پنجم کے لئے ”آخری عشائیہ“ تیار کرنے میں ٹیٹین کو سات لگے تھے۔ دیکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاہکار شاید پلک جھپکتے میں معرض وجود میں آ گیا تھا۔ 
سر جوشوا رینلڈز اور ڈیوڈ ولکی نے کہا تھا کہ کام کرتے رہنے ہی سے کام بنتا ہے۔ بیچ نے کہا تھا کہ جو شخص پوری توجہ سے محنت کرتا ہے اور مستقل مزاجی ترک نہیں کرتا وہ بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اسمائلز لکھتے ہیں کہ تاریخ کی روایت ہے کہ وہ بھرپور لگن، ارادے اور محنت کو ”نابغہ“ اور ایسے ہی دوسرے مشہور نام دے دیتی ہے۔ 

Sunday, March 29, 2020

تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان2

March 29, 2020 0
 تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان2

کمپیوٹرز کی دنیا میں ابتدائی دور کی سیلز میں تیزی اور کارکردگی بنیادی چیزیں تھیں۔ چھ میگا ہرٹز کے کمپیوٹر کے ساتھ آئی بی ایم سب سے نمایاں ادارہ تھا جس کی سیلز مارکیٹ کے تین چوتھائی کے مساوی تھی۔ ڈیل نے بارہ میگا ہرٹز کا کمپیوٹر سیٹ تیار کیا جس کی قیمت آئی بی ایم کے تیار کئے ہوئے کمپیوٹر کی قیمت کا نصف تھی۔ کمپیوٹرز کی نمائش میں لوگوں نے قطار بند ہوکر اس کمپیوٹر کو دیکھا اور ڈیل نے دانش مندی یہ کی کہ ”پی سی ویک“ کے ٹائٹل پر بھی اس کمپیوٹر کی تصویر دی۔ مائیکل ڈیل بتاتے ہیں کہ انہوں نے موزوں موقع پر مارکیٹنگ کا ہنر سیکھا اور ہر کام تیزی سے کیا۔ کمپیوٹر انڈسٹری میں سب کچھ تیزی ہی سے کرنا ہوتا ہے۔
 2تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان

مناسب قیمت میں عمدہ کارکردگی والے کمپیوٹرز عوام کو بے حد پسند آئے۔ 1986 میں ڈیل نے چھ کروڑ ڈالر کا بزنس کیا۔ قیام کے ابتدائی تین برسوں میں اس قدر عمدہ کارکردگی کی مثال کم ہی مل پائے گی۔ 1988 میں ڈیل کو پبلک کمپنی میں تبدیل کردیا گیا۔ 
کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لئے ڈیل نے کئی بنیادی نکات دنیا کو دیئے ہیں۔ آئیے، ان نکات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 
٭ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسان کو ہر صورت حال میں غیر روایتی انداز سے سوچنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے مائیکل ڈیل سے کہا تھا کہ کمپیوٹر کے پرزے براہ راست بیچنے کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ مگر لوگوں کی اس بات پر توجہ دینا مائیکل ڈیل نے ضروری نہ سمجھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ عوام کی رائے کو نظر انداز کرکے اپنی رائے کے مطابق کام کرنا دلچسپ تجربہ ہوتا ہے۔ روایتی فکر کو چیلنج کرنا اور اسے مکمل طور پر ترک کرنا ڈیل کے کلچر کا حصہ بن گیا۔ 
٭ معاملات کو جوں کا توں رکھنے والی سوچ سے چھٹکارا پائیے۔ ڈیل کے ملازمین سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس طرح سوچیں جیسے ادارے کے ملازم نہیں بلکہ مالک ہیں۔ اس صورت میں وہ ادارے کے مفاد کو زیادہ تحفظ فراہم کرسکیں گے۔ مائیکل ڈیل نے یہ نکتہ ملازمین کے ذہن نشین کیا ہے کہ معاملات کو جوں کا توں رکھنے سے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوتا، تاہم منافع میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ 
٭ بڑے اہداف مقرر کئے جائیں۔ کسی بھی صورت حال میں ادارے کے لئے بڑے اہداف ہی موزوں ہونے چاہئیں۔ 1986 میں ڈیل نے طے کیا کہ 1992 تک بزنس کا دائرہ ایک ارب ڈالر تک بڑھادیا جائے گا اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی فروغ دیا جائے گا۔ 1992 کے آتے آتے ڈیل کا کاروبار ہدف سے دگنا ہوچکا تھا اور کئی ممالک میں اس کے دفاتر قائم کئے جاچکے تھے۔ اگر ہدف بڑا ہو تو انسان اسے حاصل کرنے کے طریقوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ 
٭ تبدیلی کو ہر حال میں پسند کیجیے اور اس کے لئے تیار رہیے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں تبدیلی ہی ایسی حقیقت ہے جو تبدیل نہیں ہوتی۔ کامیاب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس فہرست میں ہمیشہ رہیں گے۔ انسان  کو کامیابی کے لئے تیار رہنا چاہیے اور کمپیوٹر کی دنیا میں تو ہر پل تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ کمپیوٹرز کو کیریئر بنانے والوں کے لئے لازم ہے کہ مارکیٹ پر نظر رکھیں اور جدت طرازی کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ مائیکل ڈیل کا آج بھی یہ معمول ہے کہ جب بچے سو جاتے ہیں تو وہ سرفنگ کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہو کہ چیٹ رومز میں لوگ ان کی کمپنی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں! 
٭ امکانات پر نظر رکھیے، حریفوں پر نہیں۔ عام طور پر کاروباری ادارے مسابقت پر نظر رکھتے ہیں۔ جن سے کوئی خطرہ ہو ان کے بارے میں زیادہ سوچتے رہتے ہیں اور اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ امکانات سے بر وقت فائدہ اٹھانا ہی ان کی ترجیحات میں سر فہرست ہونا چاہیے۔ کسی کے خوف میں مبتلا ہوکر کچھ کرنے سے زیادہ فوائد حاصل نہیں ہوتے۔ انسان کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنا چاہیے، کسی سے خوفزدہ ہوکر نہیں۔ آخر کار کرنا وہی ہے جو صلاحیتوں کے مطابق ممکن ہے۔ 
 2تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان

ڈیل جیسے بڑے ادارے کو چلانا مائیکل ڈیل کے لئے آسان نہ تھا۔ اس قدر بھرپور کامیابی کے بارے میں انہوں نے سوچا نہ تھا۔ وہ اکثر تفنن طبع کے طور پر کہا کرتے ہیں کہ انہیں اسکول میں بتایا نہیں گیا تھا کہ ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ رکھنے والے ادارے کو کس طور چلایا جاتا ہے! تیزی سے بھرپور کامیابی ملی تو مائیکل ڈیل کے لئے بہت سے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ ان کے لئے منافع کمانے کی صلاحیت اور سیالیت کو متوازن رکھنا بہت مشکل ہوگیا۔ ایسے میں بہتر یہ تھا کہ چند امور پر زیادہ توجہ دی جاتی اور باقی معاملات قابل اعتماد اور پراعتماد ملازمین پر چھوڑ دیئے جاتے۔ اور یہی کیا گیا۔ ایسا کرنے سے ادارے کی بنیادیں مضبوط ہوتی گئیں۔ چند امور کو بہتر طور پر نمٹانے سے ادارے پنپتے جاتے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ پوری مارکیٹ کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔ ڈیل نے لیپ ٹاپ کی دنیا میں عمدہ بیٹری کے ذریعے انقلاب برپا کیا۔ مائیکل ڈیل کہتے ہیں کہ آپ کو یہ تو معلوم ہونا ہی چاہیے کہ کیا کرنا ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا نہیں کرنا چاہیے۔ 

ڈیل انکارپوریشن نے انٹرنیٹ پر فروخت کے معاملے میں پہل کی۔ کسی بھی تیسرے فریق کو بیچ میں لائے بغیر براہ راست فروخت سے اخراجات میں کمی واقع ہوئی۔ جون 1996 میں انٹرنیٹ کے ذریعے کمپیوٹرز فروخت کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور اسی سال دسمبر تک یومیہ دس لاکھ ڈالر کی فروخت ہو رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب amazon.com تین ماہ میں پندرہ ملین ڈالر کی فروخت کا حامل تھا اور نقصان میں جا رہا تھا۔ ڈیل انکارپوریشن نے مارکیٹ کے حالات سے بہت کچھ سیکھا اور نقصان سے بچنے کے تمام ممکن طریقے اختیار کئے۔ ڈیل انکارپوریشن نے اپنے پارٹس کے سپلائرز کو چند گھنٹوں کے نوٹس پر سپلائی کا پابند کیا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب کچھ یومیہ بنیاد پر بدلتا ہے۔ ایسے میں پرانے پارٹس کی مدد سے کوئی بھی کمپنی معیاری کمپیوٹرز تیار نہیں کرسکتی۔ 
ڈیل انکارپوریشن کی کامیابی میں ہوم سروس نے اہم کردار ادا کیا۔ ایک ایسے دور میں کہ جب خراب کمپیوٹرز کو اسٹور تک لے جانا پڑتا تھا، گھر پر سروس کی سہولت کا میسر ہونا نعمت سے کم نہ تھا۔ ڈائریکٹ سیلنگ کمپنی ہونے کے باعث ڈیل انکارپوریشن پر زیادہ دباؤ تھا۔ لوگ چاہتے تھے کہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں کمپنی ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ کاروباری دنیا کے لئے اس بات کی زیادہ اہمیت تھی کہ خراب کمپیوٹر کی تیزی سے مرمت کردی جائے۔ ڈیل نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ ”وعدے کم اور کام زیادہ“ کا اصول اپنانا لازم تھا۔ صرف ٹیکنالوجی اپ ڈیٹ کافی نہیں، کسٹمرز کو سروس کا بھرپور احساس بھی ہونا چاہیے۔ 
انٹرنیٹ کے ہنی مون پیریڈ اور ہائی ٹیک کی جنونی کیفیت میں ”ڈائریکٹ فرام ڈیل“ در اصل اس دور کی تاریخ بھی ہے اور کمپیوٹر کی دنیا میں نام کمانے کے خواہش مند افراد اور اداروں کے لئے ایک معیاری ہدایت نامہ بھی۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈیل انکارپوریشن کی کامیابی مقدر کا کھیل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مائیکل ڈیل نے کامیابی کو بہتر انداز سے کنٹرول کرنے کا ہنر سیکھا اور لوگوں کو سہولتیں فراہم کیں۔ سچ یہ ہے کہ لوگ اسی کو یاد رکھتے اور اہمیت دیتے ہیں جو ان کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ آسانی کا اہتمام کرتا ہے۔ 

”ڈائریکٹ فرام ڈیل“ کا پہلا حصہ ان لوگوں کے لئے زیادہ تحریک کا باعث بن سکتا ہے جو کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں مائیکل ڈیل نے اپنے ابتدائی حالات عمدگی سے بیان کئے ہیں اور کامیابی کے گر بھی سکھائے ہیں۔ ڈیل انکارپوریشن کا محض ایک کمرے سے ترقی کرکے دنیا کی صف اول کی کمپنیوں میں شامل ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کہانی میں دوسروں کے لئے بہت کچھ ہے۔ کسی بھی کامیاب ادارے کے بارے میں لکھی جانے والی کتاب میں اس ادارے کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے۔ مائیکل ڈیل نے بھی ایسا ہی کیا ہے تو کچھ حیرت انگیز نہیں۔ مائیکل ڈیل خالص کاروباری ذہن رکھتے ہیں مگر بین السطور ان کی انسان نوازی کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان

March 29, 2020 0
 تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان
 تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان
…………………………………………………………………………
مائیکل ڈیل نے عملی زندگی کا آغاز بارہ سال کی عمر سے کیا۔ انہیں ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ دنیا بھر کے ڈاک ٹکٹ انہوں نے جمع کر رکھے تھے۔ ایک نیلامی میں انہوں نے ڈاک ٹکٹ خریدے تھے اور انہیں اندازہ تھا کہ انہیں فروخت کرکے بھی لوگ کماتے ہیں۔ اپنے ڈاک ٹکٹوں کا انہوں نے ایک البم بنایا اور اپنے ایک ساتھی کے البم کے ساتھ اسے ڈاک کے ذریعے فروخت کیا۔ اس عمل سے انہیں دو ہزار ڈالر حاصل ہوئے۔ مائیکل ڈیل نے بارہ سال کی عمر میں کسی بھی درمیانے تاجر یا ایجنٹ کی کے 
بغیر فروخت کا مزا چکھا۔
 تیز رفتار کامیابی کی انوکھی داستان

مائیکل ڈیل 1965 میں ہیوسٹن، ٹیکساس میں پیدا ہوئے۔ جب کمپیوٹرز عام ہوئے تو انہیں نے بڑے شوق سے انہیں اپنایا۔ انہوں نے کمپیوٹرز میں اس قدر دلچسپی لی کہ والدین نے انہیں پندرہویں سالگرہ پر کمپیوٹر کا تحفہ دیا۔ مگر یہ دیکھ کر ان کی حیرت اور غصے کی انتہا نہ رہی کہ مائیکل ڈیل نے کمپیوٹر کو تھوڑی ہی دیر میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور یہ دیکھنے لگے کہ یہ کام کس طرح کرتا ہے؟ 1982 میں ہیوسٹن میں نیشنل کمپیوٹر کانفرنس ہوئی جس میں شرکت کے لئے مائیکل ڈیل روزانہ اسکول سے غیر حاضر ہوتے رہے۔ اس کانفرنس میں مائیکل ڈیل نے جو کچھ دیکھا اس سے ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ کمپیوٹرز کی فروخت کے ذریعے چھ یا سات سو ڈالرز کے پرزوں کو تین ہزار ڈالر تک میں فروخت کیا جاسکتا تھا!
مائیکل ڈیل نے چھوٹی عمر میں محسوس کرلیا کہ کسی بھی کمپنی سے پرزے خرید کر کوئی بھی شخص کمپیوٹر بناسکتا ہے۔ قابل غور بات یہ تھی کہ عوام کو کمپیوٹرز کے بارے میں بنیادی باتیں معلوم نہیں تھیں۔ انہیں تو بس اس جادوئی مشین کے استعمال سے غرض تھی۔ خوردہ فروش ایک کمپیوٹر پر ہزار ڈالر تک منافع کما رہے تھے مگر خریداروں کو کسی بھی قسم کی مدد اور رہنمائی فراہم نہیں کی جارہی تھی۔ کمپیوٹرز کی طلب غیر معمولی تھی۔ لوگ بلا حیل حجت کمپیوٹرز خرید لیا کرتے تھے۔ اسکول کے طالب علم کی حیثیت سے مائیکل ڈیل نے یہ سب دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کمپیوٹرز کو بہتر بناسکتے ہیں اور کمتر قیمت پر بھی کمپیوٹرز فراہم کرسکتے ہیں۔ والدین یہ چاہتے تھے کہ ڈیل کالج میں داخلہ لے اور ڈاکٹر بنے۔ 
مائیکل ڈیل نے یونیورسٹی آف ٹیکساس میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ساتھ کاروباری اداروں کے لئے کمپیوٹرز کو اپ گریڈ کرنا بھی شروع کیا۔ کاروباری افراد اور پروفیشنلز کے لئے زیادہ کام کرتے رہنے کے باعث مائیکل ڈیل کی تعلیم متاثر ہوئی اور جب امتحانات میں ان کے مارکس کم آئے تو والدین کو شک ہوا اور وہ کالج پہنچے۔ ڈیل نے کسی نہ کسی طرح کمپیوٹرز کے تمام پرزے اپنے کمرے سے نکال کر کہیں چھپادیئے۔ والدین نے سخت انتباہ کیا کہ وہ اپنی پوری توجہ صرف تعلیم پر مرکوز رکھے اور دوسرا کوئی کام نہ کرے۔ ڈیل کے والد شدید غصے میں تھے۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ان کا بیٹا تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے کاروباری اداروں کے لئے کمپیوٹرز پر کام کر رہا ہے۔ جب انہوں نے ڈیل سے پوچھا کہ وہ عملی زندگی میں کس مقام پر پہنچنا چاہتے ہیں، کیا بننا چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا ”میں آئی بی ایم سے مسابقت چاہتا ہوں!“
مائیکل ڈیل نے اپنی کتاب میں بہت کچھ بیان کیا ہے۔ ایک طرف ان کی اپنی کہانی اس کتاب کا جز ہے اور دوسری طرف انہوں نے انڈسٹری کے حالات بیان کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے لوگ یہ راز جان سکتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں مسابقت کس طور ممکن ہے اور کس طرح اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کیا جاتا ہے۔ اگر تحریر کے معیار کو پرکھا جائے تو ”ڈائریکٹ فرام ڈیل“ کوئی بہت اچھی کتاب نہیں تاہم ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کتاب کے ذریعے عام آدمی کو کیا پیغام دیا گیا ہے۔ مائیکل ڈیل چاہتے ہیں کہ لوگ سوچنے کے فرق کو سمجھیں۔ جو لوگ مختلف انداز سے سوچتے ہیں ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوتا ہے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک باصلاحیت نوجوان کسی بڑے ادارے کو چیلنج کرسکتا ہے اور کامیاب بھی رہتا ہے۔ اپنے اصولوں اور ارادوں پر یقین ہی کامیابی کا بنیادی اصول ہے۔ 
مائیکل ڈیل نے 1984 میں ایک چھوٹی کمپنی کی بنیاد ڈالی اور مختلف کاروباری اداروں کو کمپیوٹر کے پرزے اور اپ گریڈنگ ٹولز فراہم کرنا شروع کیا۔ اس کام نے اتنا فروغ پایا کہ وہ سالانہ پچاس ہزار ڈالر تک کمانے لگے۔ اب انہوں نے دو کمروں کا اپارٹمنٹ کرائے پر لیا اور اس میں رہائش اختیار کرلی۔ کاروباری مقاصد کے لئے انہوں نے ہزار مربع فیٹ رقبے کا دفتر کرائے پر لیا۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں انہوں نے اپنے والدین کو نہیں بتایا۔ جب کاروبار نے وسعت اختیار کی تو تعلیم جاری رکھنا ان کے لئے ممکن نہ رہا اور انہوں نے کالج چھوڑ دیا۔ کالج چھوڑتے وقت وہ تھوڑے سے خوفزدہ تھے مگر بہر حال ان کے پاس تعلیم جاری رکھنے کا ایک چانس موجود تھا۔ دو سال کے اندر کمپنی کا کاروبار اس قدر پھیل گیا کہ اس کا دفتر تین مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ اب ڈیل نے اپنے تیار کئے ہوئے کمپیوٹرز بیچنا بھی شروع کردیا۔ ڈیل نے لوگوں کو مڈل مین سے نجات دلائی۔ پہلے لوگ کسی خوردہ فروش سے کمپیوٹر کا سامنا خریدا کرتے تھے۔ ڈیل نے انہیں ڈاک یا فون کے ذریعے سامان حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی۔ اس صورت میں انہیں پیسے اور وقت دونوں کی بچت ہوتی تھی۔ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران مائیکل ڈیل لوگوں کو مستقبل کی خریداری کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کیا کرتے تھے۔ کسی بھی شے کے فروغ میں گاہک کو براہ راست شامل کرنے کا یہ انوکھا تجربہ تھا۔