Urdu Jahan: Urdu Moral Story

Urdu Jahah is all about URDU

Showing posts with label Urdu Moral Story. Show all posts
Showing posts with label Urdu Moral Story. Show all posts

Saturday, April 11, 2020

دو بھائی

April 11, 2020 0
 دو بھائی

 دو بھائی

 دو بھائی


 ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک گاؤں میں دو یتیم بھائی رہتے تھے۔ بڑا بھائی بہت چالاک جبکہ چھوٹا بھائی انتہائی شریف اور سیدھا سادھا تھا۔ 
 دونوں بھائیوں کے پاس مشترقہ طور پر ایک کھجور کا درخت، ایک عدد بھینس اور ایک کمبل تھا۔
بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے کہا کہ تینوں چیزوں کو تقسیم کرتے ہیں۔ بڑے بھائی نے کہا کہ کھجور کے اوپر والا حصہ میرا جبکہ نیچے والا حصہ تمہارا ہوگا۔
بھینس کا اگلا حصہ تمہارا اور پچھلا حصہ میرا۔
کمبل رات کو میرے پاس ہوگا اور دن کے وقت تمہارے پاس ہوگا۔
چھوٹا بھائی اس کی چالاکی کو نا سمجھ سکا اور اس کی بات مان لی۔
جب گرمیوں کا موسم آیا تو کھجور کا درخت کھجوروں سے بھر گیا۔ اب بڑا بھائی درخت پہ چڑھ جاتا اورکھجوریں کھاتا رہتا اور چھوٹا بھائی نیچے سے دیکھتا رہتا۔ کئی باراس نے اپنے بڑے بھائی سے کھجوریں مانگیں لیکن اس نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اوپر کا حصہ میرا ہے، تمہاراحصہ نچلا ہے اس لیے تم صرف درخت کو پانی دیا کرو۔ ؎گاؤں میں ا ایک ذہین بوڑھا رہتا تھا۔چھوٹا بھائی بوڑھے کے پاس گیا اور اسے اپنا مسئلہ بیان کیا۔ بڑھے نے اسے ایک حل بتایا کہ اس طرح کرنے سے تمہارا بھائی آئندہ تمہیں  تنگ نہیں کرے گا۔چھوٹا بھائی گھر گیا اور جب اس کا بڑا بھائی کھجور کے درخت پر چڑھا تو یہ نیچے کھلاڑی لے کر درخت کو کاٹنے لگا۔ بڑے بھائی نے اوپر سے آواز لگائی کہ تم کیا کر رہے ہو، درخت کیوں کاٹ رہے ہو میں گر جاؤں گا۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ نچلا حصہ میرا ہے میں اسے چاہوں کاٹوں یا جو کچھ کرو اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ بڑے بھائی کی سمجھ میں اب بات آئی تھی اس نے کہا کہ تم درخت مت کاٹوہم کھجوریں تقسیم کرکے کھایا کریں گے جس پر چھوٹا بھائی مان گیا اور آئندہ وہ دونوں کھجوریں برابر تقسیم کرکے کھانے لگے۔
چھوٹا بھائی سارا سارا دن بھینس کو چارہ ڈالتا اور اسے پانی پلاتا جبکہ بڑا بھائی آرام سے بیٹھا رہتا اور شام کودودھ دوھ کر چلا جاتا اور اکیلا سارا دودھ پی جاتا۔جب چھوٹے بھائی نے کہا تم مجھے بھی دودھ دیا کرو تو بڑے بھائی نے کہا کہ تمہارا اگلا حصہ ہے جبکہ پچھلا حصہ میرا ہے اس لیے تم دودھ نہیں لے سکتے۔
 چھوٹا بھائی دوبارہ اسی بزرگ کے پاس گیا اور پھر سے اس سے مدد مانگی جس پر اس بزرگ نے اس مسئلے کا حل بیان کر دیا۔
بڑا بھائی جب بھینس کا دودھ دوھ رہا تھا تو چھوٹا بھائی ایک لاٹھی لے کر آیا اور آگے سے بھینس کو مارنے لگا جس سے بھینس بھاگنے لگی اور سارا دودھ نیچے گرگیا۔اب چھوٹا بھائی روزانہ یہی کام کرتا اور بھینس کو مارتا رہتا جس سے سارا دودھ ضائع ہوجاتا جس پر بڑے بھائی نے اس سے جھگڑا کیا اور کہا کہ یہ تم کیا کرتے ہو۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ اگلا حصہ میرا ہے میرن مرضی میں جو چاہے کرں۔بڑے بھائی نے کہا کے تم آدھا دودھ لے لیا کرو مگر آئندہ ایسا مت کیا کرو۔

پھر جب سردیوں کا موسم آیا تو بڑا بھائی رات کو کمبل میں سوتا جبکہ چھوٹا بھائی ساری رات سردی میں پڑا رہتا اور اسے کمبل نہیں ملتا تھا۔چھوٹے بھائی نے ایک بار پھر بزرگی کی مدد مانگی اور اسے اس مسئلے کا حل پوچھا۔ اب چھوٹا بھائی سارا دن کمبل اپنے پاس رکھتا تھا اور ٹھیک سہ پہر کے وقت کمبل پانی میں بھگو کر رکھ دیتا جس سے بڑا بھائی رات کو استعمال نہیں کر پاتا تھا۔ 
جب بڑے بھائی نے دیکھا کہ اسے کمبل کے بغیر سردی میں سونا پڑھ رہا ہے تو اس نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ ہم دونوں ہی کمبل استعمال کیاکریں گے تم ایسا مت کیا کرو اور اس کے بعد دونوں بھائی ہنسی خوشی رہنے لگے اور ان کی زندگی خوشحال گزرنے لگی۔

Sunday, April 5, 2020

بادشاہ اور عقل مند لڑکا

April 05, 2020 0
 بادشاہ اور عقل مند لڑکا

بادشاہ اور عقل مند لڑکا

 بادشاہ اور عقل مند لڑکا

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک پر بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن بادشاہ کے ذہن میں انوکھی بات آئی اور اس نے اپنے وزیروں کے ساتھ شرط لگائی کہ بکری ایک ایسا جانور ہے جس کا کبھی پیٹ نہیں بھرتا اور وہ ہر وقت چرتی ہی رہتی ہے۔ بکری کو چاہے جتنا بھی چارہ کھلایا جائے پھر بھی چارہ دکھانے پر وہ چارے کی طرف بھاگتی ہے اور کھا جاتی ہے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں کے ساتھ شرط لگائی کہ کوئی ایسا طریقہ بتاؤجب بکریاں خوب کھا لیں اور ان کو چارہ دکھایا جائے تو وہ چارے کی طرف نا آئے۔

بادشاہ کی بات سن کر وزیروں نے بہت سوچا لیکن ان کو کوئی حل نا مل سکا۔تب وزیروں نے عام منادی کرادی کہ جو کوئی بھی اس بات کو حل کر لے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ 
 سن کر لوگبادشاہ کے پاس آئے اور اپنی قسمت آزمائی کرنے لگے۔ بادشاہ نے ہر ایک کو باری باری دس بکریاں دیں اور ان سے کہا کہ پندرہ دنوں کے بعد ان بکریوں کو واپس لانا ہوگااور جب ان کو چارہ دکھایا جائے تو یہ چارے کی طرف نا آئیں بلکہ اس سے دور بھاگیں اور تم لوگوں نے ان بکریوں کو خوب پیٹ بھر کر چارہ کھلانا ہے۔ باری باری تمام لوگوں نے اپنی قسمت آزمائی کی لیکن کوئی بھی اس کام میں کامیاب نہ ہو پایا کیونکہ بکری، بھیڑ ایک ایسا جانور ہے جو کہ ہر ٹائم، ہر وقت چرتا ہی رہتا ہے، چاہے اس کا پیٹ بھر بھی جائے پھر بھی وہ کچھ نہ کچھ کھاتا ہی رہتا ہے۔ 
اس ریاست میں ایک لڑکا تھا جو کہ بہت چالاک، دماغ بھی بہت تیز اور وہ بہت حاضر جواب تھا۔ اس نے بھی اپنی قسمت آزمائی کے لیے بادشاہ سے بکریاں لیں اور گھر آ گیا۔
 اس نے اپنا یہ معمول بنایاکہ روزانہ بکریوں کو چارا کھلاتا اور جب شام کو ان بکریوں کو اکٹھا کرتا تو ایک طرف بیٹھ کر چارہ دکھاتا جس سے بکریاں اس کی طرف بھاگتی ہوئی آتیں۔ جب بکریاں اس کی طرف آتیں تو وہ ایک چھڑی سے بکریوں کو خوب پیٹتا اور ان کو چارہ نہ کھانے دیتا۔
 پندرہ دن اس کا یہی معمول رہا کہ وہ دن کو بکروں کو خوب چارہ کھلاتا کو اور شام کو چارہ دکھا کر جوبکری چارے کی طرف آتی اسے خوب پیٹتا اور اس طرح بکریاں چارہ دکھانے سے چار کی طرف نا آتیں بلکہ پیچھے کی طرف جاتی۔ 
 مقررہ دن کے بعدلڑکا بکریوں کو بادشاہ کے پاس لایااور بادشاہ سلامت سے کہا کہ آپ کے وعدے کے مطابق میں بکریاں لے آیا ہوں اور اب یہ چارہ دکھانے سے چارے کی طرف نہیں لپکیں گیں بلکہ چارے سے دور بھاگیں گیں۔  
بادشاہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں ابھی دیکھ لیتے ہیں بادشانے کچھ چارا منگوایا اور بکریوں کو چارہ دکھایا۔ بکریوں نے جیسا ہی چارہ دیکھا وہ پیچھے کی طرف بھاگیں۔ یہ دیکھ کر بادشاہ بہت حیران ہوا اور نوجوان سے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیسے کیا۔ 
تب نوجوان نے بادشاہ کو کو ساری بات بتائی اور بادشاہ نے نوجوان کو انعام دیا۔
the end


Saturday, April 4, 2020

ْقاضی اور قصائی

April 04, 2020 0
 ْقاضی اور قصائی

 ْقاضی اور قصائی

 ْقاضی اور قصائی

             ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں دوبھائی رہتے تھے۔دونوں بھائی پیشے کے لحاظ سے قصائی تھے اوراپنے مُلک سے دورکسی سلطنت میں مِل کرقصائی کا کام کرتے تھے۔کچھ عرصہ کام کرنے کے بعدانہیں اپنے گھر کی یاد آنے لگی،اس عرصے میں دونوں بھائی اشرفیوں کی اِک تھیلی جمع کرچکے تھے۔دونوں بھائی گھر جانے کیلئے اپنے ملک کی طرف چل پڑے۔
                
                 کئی دنوں تک وہ اِک قافلے کے ساتھ سفر کرتے رہے۔سفرکے دوران قافلے نے ایک گاؤں میں پڑاؤ کیا۔دونوں بھائی گاؤں کے بازار میں پھر رہے تھے کہ ایک فقیر نے دونوں بھائیوں کو صدالگائی    ؛اللہ کے نام پہ دے جا بابا‘دونوں نے فقیر کو دیکھا۔فقیراِک بزرگ تھا جو میلے اور پھٹے پُرانے کپڑوں میں ملبوس ہاتھ میں اِک   لاٹھی لئے کھڑا تھا۔دونوں بھائیوں کو فقیر پہ ترس آگیا۔انہوں نے اپنی تھیلی سے کچھ اشرفیاں نکال کر اس فقیر کو دے دیں۔بزرگ نے کہا کہ میں بھی کبھی تمہاری طرح دولت مند تھا۔میرے پاس بھی بہت اشرفیاں اور اپنا اچھا گھر تھا۔پھر ایسا زوال آیاکہ میں اب فقیر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔اگر تم ناراض نہ ہو تو کچھ دیر کیلئے اپنی اشرفیوں کی تھیلی مجھے دے دو تاکہ میں اسے اپنے ہاتھوں میں اُٹھا کر اپنے گزرے وقت کے لمحوں کو یاد کرسکوں۔دونو بھائیوں نے سوچا کہ تھوڑی دیر کی تو بات ہے بیچارے بزرگ کا دل بہل جائے گا۔دونوں بھائیوں نے اشرفیوں سے بھری تھیلی فقیر کو دے دی۔فقیر اشرفیوں سے بھری تھیلی ہاتھ میں تھامے خوش تھااور بچوں کی طرح کھیل رہا تھا۔دونوں بھائی فقیر کو دیکھتے رہے۔جب کچھ وقت گُزرا تو ایک بھائی نے فقیر سے کہا کہ اب ہماری تھیلی واپس کر کرو۔جس پر فقیر نے  جواب دیا کہ کونسی تھیلی یہ تو میری اشرفیاں ہیں جو میں نے بھیک مانگ کرجمع کی ہیں تم لوگ جاؤ۔فقیر کا جواب سُن کر دونوں بھائی حیران وپریشان ہوگئے اور فقیر پر زور دینے لگے کہ مزاق مت کرو ہماری اشرفیاں واپس کرو،ہم نے دیر کردی تو قافلہ نکل جائے گا اور ہم پیچھے رہ جائیں گے ۔فقیرنے کہا کہ جاؤ تمہیں کس نے روکا ہے۔یہ رقم میری ہے جو میں نے محنت کرکے جمع کی ہے اور اب تم لو گ مجھ سے چھیننا چاہتے ہو۔اب فقیر اور دونوں بھائی  آپس میں لڑنے لگے۔انہیں لڑتا دیکھ کر لوگ جمع ہوگئے اورپوچھا کہ کیوں لڑرہے ہو۔ان دونوں بھائیوں نے اپنی رقم کا مطالبہ کیاجبکہ فقیر نے لوگوں سے کہا کہ یہ رقم میری ہے اور یہ دونوں مجھے لوٹنا چاہتے ہیں۔جب لوگوں نے دیکھا کہ تینوں لڑائی سے باز نہیں آرہے تو لوگ انہیں قاضی کے پاس لے گئے۔

         قاضی نے تینوں سے باری باری پوچھا۔جس پر بھائیوں نے کہا کہ یہ رقم ہماری ہے ہم نے اس فقیر کی مدد کی اور اُلٹا یہ ہماری رقم لوٹ رہاہے،جبکہ فقیر نے کہاکہ یہ رقم میری ہے جو میں نے بھیک مانگ مانگ کر اکٹھی کی ہے اور یہ لوگ مجھے لوٹنا چاہتے ہیں۔قاضی نے تسلی سے تینوں کی بات سُنی اور حُکم دیاکہ ایک دیگ میں پانی گرم کیا جائے۔ایک دیگ لائی گئی اسے پانی سے بھر کر نیچے آگ جلا دی گئی۔جب دیگ میں پانی اُبلنے لگا تو قاضی نے کہاکہ اشرفیاں اس اُبلتے پانی میں ڈال دواور آگ بجھا دو۔اشرفیوں کو پانی میں ڈال کر آگ بجھادی گئی۔کچھ دیر بعد جب پانی ٹھنڈ اہوا توقاضی اپنی نشست سے اُٹھا اور دیگ میں ہاتھ مارنے لگا۔پانی سے ہاتھ نکال کر قاضی نے حُکم دیا کہ یہ اشرفیاں اِن دونوں بھائیوں کی ہیں۔اشرفیاں نکال کر اِن کو دے دو،فقیر جھوٹا ہے اس لئے اسے قتل کردو۔اشرفیاں نکال کر دونوں بھائیوں کو دے دی گئیں اور فقیر کو قتل کرنے کے لئے سپاہیوں کے حوالے کر دیا گیا،لیکن لوگ حیران و پریشان تھے کہ یہ کیسا فیصلہ ہے،ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آیا۔لوگوں نے قاضی سے سوال کیاکہ آپ کوکیسے علم ہواکہ یہ اشرفیاں اِن بھائیوں کی ہیں؟قاضی نے لوگوں سے کہاکہ اس پانی میں ہاتھ ڈالو۔جب انھوں نے پانی میں ہاتھ ڈالاتوپانی میں گوشت کی چربی کی چکناہٹ تھی،جس سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ اشرفیاں کسی قصائی ہیں جو گوشت والے ہاتھوں میں رہیں۔لوگ قاضی کی عقل مندی اور فیصلے سے بہت متاثر ہوئے اور یہ دونوں بھائی اپنی اشرفیاں لے کر قافلے کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ The End

02 غریب کسان اور قسمت

April 04, 2020 0
02 غریب کسان اور قسمت
02 غریب کسان اور قسمت

کسان بادشاہ سے رخصت ہو ا۔اب وہ اپنے واپسی سفر
 پر روانہ ہوا۔ باغ والے آدمی کے پاس پہنچا اس سے ملاقات کی اور اسے اپنے سفر کی روداد سنائی۔باغ والے آدمی نے اس کی مہمان نوازی کی اور اسے اپنے سوال کے متعلق بھی پوچھا۔تب کسان نے اسے بتایا کہ جس درخت پر پھل نہیں ہورہا ہے اس کے نیچے دوغریب اور یتیم بچوں  کا خزانہ دفن ہے۔ تم وہ خزانہ نکال کر ان غریب بچوں کو دے دو۔تو تمہارہ یہ درخت بھی پھل دینے لگے گا۔ تب دونوں نے مل کر اس درخت کو کھودا تو اس کے نیچے واقعی ایک صندوق تھا جو کہ سونے چاندی سے بھرا ہوا تھا۔جب باغ کے مالک نے معلومات کی تو پتہ چلا کہ وہ دو بچے تو کافی عرصہ سے فوت ہوچکے ہیں۔باغ کے مالک نے کسان سے کہا کہ میرا تو بہت اچھا باغ ہے اور مجھے اس اچھی خاصی آمدن ہوجاتی ہے تم ایسا کرو یہ صندوق تم رکھ لو غریب آدمی ہوں تم ایک اچھا گھر بنا سکو گے اور ایک اچھی زندگی گزار سکوگے۔ 
لیکن کسان نے کہا کہ میں یہ صندوق اور یہ سونا چاندی کیا کروں گا میری تو اب قسمت جاگ چکی ہے مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں 
یہ کہہ کر کسان وہاں سے روانہ ہو گیا اور وہ صندوق باغ کے مالک کو دے دیا۔واپسی پر جب کسان جنگل سے گزر رہا تھا تو شیر سے اس کی ملاقات ہوئی اور شیر نے اس سے پوچھا کہ بھائی بتاؤ تمہارا سفر کیسا رہا۔کسان نے شیروں کو تفصیل سے اپنے سارے سفر کی کہانی بیان کی اور بتایا کہ اس طرح میرے ساتھ واقعات ہوئے ہیں تو اس کے بعد شیر نے اپنے مسئلے کے بارے میں پوچھا کہ تم نے میرا کام بھی کیا ہے کہ نہیں 
کسان نے کہا کہ تمہارا کام ہو گیا ہے۔تمہاری بھوک کا ایک ہی حل ہے کہ تم کسی بے وقوف آدمی کا شکار کرکے اسے کھاؤ تو پھر تمہاری بھوک ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی اور تمہارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ تو ٹھیک ہے اب میں گھر جا رہا ہوں۔ یہ بات سن کر شیر نے اس کا راستہ روک لیا اور کہا کہ تم کہاں جارہے ہو میں تو تمہارا ہی شکار کروں گا اور تمہیں کھاؤں گا۔ کسان نے کہا کہ تم مجھے کیوں کھاؤ گے بلکہ میں نے تو تمہارا کام کیا ہے اور تمہاری مدد بھی کی ہے۔جس پر شیر نے کہا کہ سب سے بیوقوف انسان تو تم ہی ہو کہ یہ جو تمہیں مواقع ملے تھے دراصل یہی تو تمھاری قسمت تھی لیکن تم نے انہیں نظر انداز کیا اور آگے کی طرف چل دیئے اس لیے تم سے بڑا بے وقوف اور کون ہو سکتا ہے یہ کہنے کے بعد شیر نے اس پر چھلانگ لگائی اور جھٹ سے اسے کھا گیا۔

.01 غریب کسان اور قسمت

April 04, 2020 0
 .01 غریب کسان اور قسمت

 غریب کسان اور قسمت

 .01 غریب کسان اور قسمت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں کسان رہتا تھا جو کہ بہت ہی غریب تھا۔ کسان اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ کچے مکان میں رہتا تھا۔ 
کسان کی ضرورتیں بہت ہی مشکل سے پوری ہو رہی تھیں۔ کبھی بارش سے اس کی فصل خراب ہو جاتی تو کبھی بارش نا ہونے سے سوکھ جاتی۔
کسان اپنے حالات سے بہت پریشان تھا اور اسے اس کاکوئی حل نہیں مل رہا تھا۔پھرایک دن گاؤں میں ایک فقیر آیا اور سب لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے۔سب لوگ اپنی پریشانی بتا رہے تھے اس سے دعائیں کروا رہے تھے۔ فقیر سب کے لئے دعائیں کر رہا تھا۔ کچھ دن فقیر گاؤں میں رہا لوگوں نے بھی اس کی خوب خدمت کی۔جب غریب کسان کو فقیر کا معلوم ہوا تو وہ بھی فقیر کے پاس جا پہنچا اور اپنے لئے دعا کرنے کا کہاکہ میرے لیے دعا کریں۔میرے حالات ٹھیک ہو جائیں اور میری غربت ختم ہو جائے۔ فقیر نے کسان کو غور سے دیکھا اور کہا کہا کہ تمہارے حالات کیسے ٹھیک ہوں گے تمہاری تو قسمت سو رہی ہے۔پہلے تم اپنی قسمت کو جگا نا ہوگا۔ دوسری ریاست میں تین پہاڑ ہیں۔ ان تین پہاڑوں میں غار ہے اس غارمیں تمہاری قسمت سو رہی ہے تم جاؤ اور اپنی قسمت کو جگاؤ تمہارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔

 .01 غریب کسان اور قسمت

 کسان کو فقیر بات سن کر کچھ تسلی ہوئی اور اس نے ان پہاڑوں کی طرف سفر شروع کر دیا۔راستے میں اسے ایک جنگل سے گزرنا تھا۔وہ جنگل میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس کے سامنے شیر ہے تو وہ جلدی سے درخت پر چڑھ گیا۔ شیر اس کے قریب آیا اور درخت کے نیچے آکر کھڑا ہوگیااور کسان سے کہا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو، کہاں جا رہے ہو۔کسان نے کہا کہ میں اپنی قسمت کو جگانے جا رہا ہوں ہو شیر نے کہا کہا کہ میرا بھی ایک مسئلہ ہے جو حل نہیں ہو رہا تم اپنی قسمت سے پوچھنا کہ میرا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جتنا شکار کھاؤ میری بھوک ختم ہی نہیں ہوتی۔
 کسان اب جنگل سے روانہ ہوا۔ اس کے بعد ایک بستی میں داخل ہوا اور قریب ہی انار کا باغ تھا۔وہ باغ میں گیا اور وہاں سے انار توڑ کر کھانے لگا اور نہر سے پانی بھی پیا۔باغ کا مالک باغ میں پہنچ گیا اور کسان سے پوچھا تم کون ہو اور کیوں ایسے میرے باغ میں آکر میرے پھل کھا رہے۔  تو کسان نے کہا کہ میں پردیسی ہوں اور فلاں کام کے لیے فلاں جگہ جا رہا ہوں۔باغ والے شخص نے کہا کہ میرا بھی ایک مسئلہ ہے وہ بھی اپنی قسمت سے پوچھنا کہ میرا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔  
 میرا مسئلہ یہ ہے کہ کہ میرا باغ بہت آچھا ہے اور بہت پھلدار ہے لیکن ایک درخت ہے جس پر کبھی پھل نہیں لگا اور وہ ہمیشہ سوکھا رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے۔کسان وہاں سے ر وانہ ہو۔وہ ایک دوسرے سلطنت میں پہنچ گیا۔جب وہ دوسری سلطنت میں پہنچا تو اسے سپاہیوں نے پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کردیا۔بادشاہ نے پوچھا کہ تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو کسان نے اپنی ساری داستان سنائی کہ وہ کون ہے اور کہا جا رہا ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم دو دن ہمارے پاس رہو تمہاری مہمان نوازی کریں گے تم ہمارے مہمان ہو پھر تم چلے جانا۔ دو دن بادشاہ نے کسان کی خوب خدمت کی جب کسان جانے لگا گا توبادشاہ نے اس سے کہا کہ میرا ایک مسئلہ ہے تو اپنی قسمت سے پوچھنا کہ وہ کیسے حل ہوگا میرا مسئلہ یہ ہے۔ کہ میں      اپنی رعایا کے ساتھ بہت رحم کرتا ہوں 
 ان کے ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہوں لیکن لوگ میری عزت نہیں کرتے۔کسان وہاں سے روانہ ہوگیا۔

جب کسان ان پہاڑ پر پہنچا  تو غار میں ایک بڑھیا سو رہی تھی۔ جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور ہر طرف گندگی ہی گندگی تھی۔کسان نے  بوڑھا کوجگایا اورکہا کہ تم میری قسمت ہو تم یہاں آرام سے سو رہی ہو اور وہاں میری زندگی خوار ہے۔ اس لئے اٹھو اور میری مدد کرو بڑھیا نے کہاکہ اب تم جاؤ او تمہارا کام ہو گیا۔اب تمہارے حالات بہتر ہوجائیں گے۔کسان نے اس سے سوالات بھی پوچھے اور اس کے جوابات بھی اسے مل گئے۔
اب کسان واپسی کے سفر پر روانہ ہوگیا یا تو پہلے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا جا وہاں دو دن آرام کیا خوب کھایا پیا یا اوراسے اس کا جواب بتایا کسان نے بادشاہ سے کہا ہاں کہ دراصل تم ایک عورت ہو ہوں اور تم مرد بن کر کر حکومت کر رہے ہو ہو اگر تم کسی مرد سے شادی کر لو اور تم مریکا بن جاؤ اور اسے بادشاہ بنا دوں تو تمہاری بہت عزت کریں گے 
کسان کی یہ بات سن کر بادشاہ نے کہا ہاں کہ پھر تم مجھ سے شادی کر لو اسے تمہاری سلطنت کے مالک بن جاؤ گے اور میں تمہاری ملکہ بن جاؤں گی کیونکہ میں یہ راز کسی اور کے ساتھ نہیں کرنا چاہتا کتا کسان نے کہا کہ میں یہ بادشاہت اور یہ ملک کیا کروں گا میرے توپ قسمت جاگی ہے میرے حالات تو بہتر ہوگئے ہیں 


Tuesday, March 31, 2020

بادشاہ اور بیج

March 31, 2020 0
بادشاہ اور بیج

بادشاہ اور بیج

بادشاہ اور بیج

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک پر بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ایک دن بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج اپنی رعایا کو آزمایا جائے اور دیکھا جائے کہ کون کتنا ایماندار ہے اور کون کتنا لالچی۔ بادشاہ نے رعایا میں منادی کرا دی اور تمام لوگوں کو اپنے دربار میں بلایا۔جب تمام لوگ بادشاہ کے دربار میں آچکے تو بادشاہ نے لوگوں سے کہاکہ ہر شخص کو ایک گملہ دیا جائے گا جس میں ایک بیج ہے۔لیکن تمام گملوں میں صرف ایک ہی بیج صحیح ہے باقی میں نقلی بیج ہیں جس کے گلے میں اصلی بیج ہے اس سے  پھول کھلے گا اور جس کے پاس پھول والا گملا ہوگا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ تم لوگوں کے پاس پندرہ دن ہیں۔ ان 15 دنوں کے بعد ہر شخص آکر اپنا گملہ دکھائے گا اور جس شخص کیگملے میں پھول ہوگا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔
 اس کے بعد بادشاہ کے حکم کے مطابق ہر شخص کو ایک گملا دیا گیا اور تمام لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔اب لوگ اس گملے کی دیکھ بھال کرنے لگے روزانہ ٹائم پرا سے پانی دیتے تھے اور اس امید پر کہ اس سے پھول نکلے گا اور ہمیں انعام ملے گا۔جب پانچ چھ دن گزر چکے تو کسی کے بھی گملے سے کوئی پودا نہ نکلا  تو لوگوں نے اس گملے میں خود ہی کسی پھول کابیج بو کر اسے پانی دینا شروع کر دیااور ہر کسی کے گلے سے پھول نکلنا شروع ہوگئے۔ایک نوجوان تھا وہ بہت غریب تھا جب اس کے گلے سے کچھ نہ نکلا تو وہ پریشان نہ ہوا اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا 15 دنوں کے بعد ہر کوئی خوشی خوشی بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور جب دیکھا کے ہر کسی کے گملے میں پھول ہے تو سب لوگ حیران ہوئے کہ اب انعام کس کو ملے گا۔وہ نوجوان بھی دربار میں حاضر تھا اور اس کا گملہ خالی تھا۔تب بادشاہ سلامت دربار میں حاضر ہوا۔ سب لوگوں کو اپنے سامنے بلایا اور دیکھا کہ تمام لوگوں کے گملوں میں پھول اگے ہوئے ہیں اور ایک نوجوان ہے جس کا گملہ خالی ہے۔ بادشاہ نے اس نوجوان کو بہت سارا سونا اور انعام دیے اور اسے رخصت کر دیا اور باقی لوگوں سے کہا کہ تم لوگ ایماندار نہیں ہو۔ کیونکہ تم نے خود ساختہ ہی پھول لگائے ہیں کیونکہ تمہارے گملوں میں کوئی بھی بیج نہیں تھا یہ تو سب خالی تھے۔یہ سب میں نے اس لیے کیا کہ تم لوگوں کا ایمان چیک کرو ں اور یہ دیکھ سکوں کہ تم لوگ کتنے ایماندار اور کتنے مخلص ہو۔